ابنا: ماسکو سے موصولہ رپورٹ کے مطابق روسي وزارت خارجہ کے سيکورٹي اور ترک اسلحہ کے ادارے کے سربراہ ميخائيل اوليانوف نے اسٹريٹيجک ہتھياروں کے بارے ميں امريکا کے ساتھ مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو اس سلسلے ميں کسي بھي قسم کي سودے بازي کو قبول نہيں کرے گا - انہوں نے کہا کہ روس کے اسٹريٹيجک ايٹمي اسلحے روسي حدود تک محدود ہيں ليکن امريکا کے اسٹريٹيجک اسلحے اس کي سرحدوں سے باہر روسي سرحدوں کے قريب نصب ہيں -
روس کے سيکورٹي اور ترک اسلحہ ادارےکے سربراہ ميخائيل اوليانوف نے کہا کہ يہ افسوسناک بات ہے کہ امريکا کے مخصوص ايٹمي اسلحے نيٹو کے رکن ملکوں ميں اب بھي موجود ہيں اور ان سے غير ايٹمي ملکوں کي افواج کي مشقوں کے لئے کام ليا جاتا ہے جو اين پي ٹي کي کھلي ِخلاف ورزي ہے - انہوں نے کہا کہ يہي وجہ ہے کہ ہم تاکيد کے ساتھ مطالبہ کرتے ہيں کہ غير ايٹمي ملکوں سے امريکا کے ايٹمي اسلحے اور يورپي ملکوں سے وہ تنصيبات ہٹائي جائيں جہاں ايٹمي اسلحے فوري طور پر لانچ کئے جاسکتے ہيں - انہوں نے روس کے ايٹمي اسلحے کے بارے ميں مغربي پروپيگنڈوں کو بے بنياد قرار ديا اور کہا کہ وہ اس سلسلے ميں ہم سے مذاکرات کے خواہشمند ہيں اور تجويز پيش کرتے ہيں کہ ان ہتھياروں کے تعلق سے شفاف سازي کي تدبير کي جائے - روس کے سيکورٹي اور ترک اسلحہ ادارے کے سربراہ نے کہا کہ روس کے ايٹمي اسلحے کسي بھي ملک کے لئے خطرہ نہيں ہيں - انہوں نے کہا کہ روس نے انيس سو بانوے ميں اپنے ايٹمي اسلحے ستر فيصد کم کرديئے ليکن بعض يورپي ملکوں جيسے اٹلي اور ترکي ميں امريکا کے دوسو ايٹمي اسلحے اب بھي موجود ہيں.
.......
/169